
محمد زین اختر
لاہور کے تاریخی علاقے انارکلی میں واقع ہوٹلوں اور کھانوں کے مراکز میں کام کرنے والے ویٹرز خود کو ایک خاموش استحصال کا شکار سمجھتے ہیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے حالیہ بجٹ میں کم از کم ماہانہ تنخواہ 40 ہزار روپے مقرر کیے جانے کے باوجود انارکلی کے درجنوں ہوٹلوں میں ویٹرز کو اس اعلان سے کہیں کم اجرت دی جا رہی ہے۔
انارکلی کی گلیوں میں موجود چھوٹے اور بڑے ہوٹل دن بھر گاہکوں سے بھرے رہتے ہیں۔ چائے، ناشتہ، دوپہر اور رات کے کھانوں کے اوقات میں ویٹرز کی مصروفیت عروج پر ہوتی ہے۔ مگر ان میں سے اکثر کے مطابق ان کی ماہانہ آمدن 20 ہزار سے 30 ہزار روپے کے درمیان ہے، جو سرکاری اعلان سے تقریباً آدھی بنتی ہے۔
پچیس سال سے ویٹر کے طور پر کام کرنے والے محمد سلیم کہتے ہیں کہ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے اسی علاقے میں مختلف ہوٹلوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق وقت کے ساتھ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے مگر تنخواہ میں وہ تناسب نظر نہیں آتا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت نے کم از کم تنخواہ 40 ہزار مقرر کی ہے تو ہمیں بھی وہی ملنی چاہیے کیونکہ ہمارا کام بھی محنت طلب ہے اور اوقات کار طویل ہیں۔
ایک اور ویٹر، علی رضا، جو گزشتہ آٹھ برس سے ایک معروف ہوٹل میں کام کر رہے ہیں، بتاتے ہیں کہ ان کی تنخواہ 25 ہزار روپے ہے۔ ان کے مطابق ہوٹل مالکان یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ کاروبار کے اخراجات زیادہ ہیں اور اتنی تنخواہ دینا ممکن نہیں۔ علی رضا کہتے ہیں کہ وہ روزانہ دس سے بارہ گھنٹے کام کرتے ہیں اور بعض اوقات اوور ٹائم کی بھی ادائیگی نہیں ہوتی۔
کچھ ویٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں امید تھی کہ بجٹ کے بعد حالات بدلیں گے مگر اب تک کوئی عملی فرق نظر نہیں آیا۔ ان کے مطابق سرکاری اعلان کاغذوں تک محدود ہے جبکہ عملی طور پر نجی شعبے میں کام کرنے والے کم اجرت پر ہی گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔
ہوٹل مالکان کی جانب سے مختلف آرا سامنے آتی ہیں۔ انارکلی میں ایک ہوٹل کے منیجر کا کہنا ہے کہ وہ سرکاری اعلان سے آگاہ ہیں مگر ان کے مطابق فوری طور پر تنخواہوں میں اتنا بڑا اضافہ کرنا مشکل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اس حوالے سے سخت نگرانی اور عملی اقدامات کرے تو شاید صورت حال بدل سکے۔
دوسری جانب مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف انارکلی تک محدود نہیں بلکہ لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں بھی کم اجرت کا رجحان پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کم از کم تنخواہ کے قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنائے اور ایسے شعبوں کی نگرانی کرے جہاں مزدور سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔
سماجی کارکن زاہد محمود کہتے ہیں کہ ویٹرز جیسے پیشوں سے وابستہ افراد معاشرے کے حاشیے پر موجود ہیں۔ ان کے مطابق یہ لوگ نہ تو منظم یونین رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنی آواز مؤثر طریقے سے حکام تک پہنچا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری اعلانات کے باوجود ان کی زندگی میں بہتری نہیں آتی۔
پنجاب حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ کم از کم اجرت کے قانون پر عمل درآمد کے لیے لیبر ڈیپارٹمنٹ کو ہدایات دی جا چکی ہیں اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔ تاہم زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ انارکلی جیسے مصروف تجارتی علاقوں میں ویٹرز اب بھی اپنی بنیادی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
انارکلی کی رونقیں اور تاریخی اہمیت اپنی جگہ، مگر ان گلیوں میں کام کرنے والے ویٹرز کے لیے زندگی ایک مسلسل آزمائش بنی ہوئی ہے۔ ان کا مطالبہ سادہ ہے کہ سرکاری اعلان محض الفاظ تک محدود نہ رہے بلکہ عملی طور پر ان کی تنخواہوں میں وہ اضافہ نظر آئے جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔





