بلوچستان میں صحافت کے دوران سیلف سنسرشپ کیوں ؟

فریڈم نیٹ ورک کی جانب سے دسمبر 2025 کے دوران بلوچستان میں صحافت سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹ محض ایک تحقیقی دستاویز نہیں، بلکہ ایک ایسے خاموش کردار کی مانند ہے جو کم بولتا ہے مگر اس کی موجودگی ہر سطر میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہ رپورٹ بلوچستان کے صحافتی منظرنامے میں خوف، دباؤ اور غیر مرئی سرخ لکیروں کو بے نقاب کرتی ہے، جہاں صحافی خبر لکھنے سے پہلے اپنی جان، خاندان اور روزگار کا حساب لگانے پر مجبور ہوتے ہیں۔

یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ بلوچستان میں سیلف سنسرشپ کسی ادارتی پالیسی کا نام نہیں، بلکہ روزمرہ بقا کا ایک غیر اعلانیہ ہنر ہے، جو ہر رپورٹر کو حالات کے تحت سیکھنا پڑتا ہے۔ یہ ایک آئینے کی طرح دکھاتی ہے کہ کون سی خبریں کبھی لکھی ہی نہیں جاتیں، کون سے سوال فائل کھلنے سے پہلے ہی بند ہو جاتے ہیں، اور کس طرح خاموشی خود ایک خبر کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں صحافت کا سب سے بڑا المیہ براہِ راست پابندی نہیں بلکہ وہ خود ساختہ احتیاط ہے جو جان بچانے کے لیے اختیار کی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران بلوچستان میں 40 صحافی قتل کیے گئے، جن میں سے 30 ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے جبکہ دیگر بم دھماکوں یا حملوں میں جان سے گئے۔ رپورٹ میں پاکستان کے مجموعی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں صحافیوں کے خلاف حملوں اور دھمکیوں میں 60 فیصد تک اضافہ ہوا۔ نومبر 2024 سے ستمبر 2025 تک صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے خلاف 142 واقعات رپورٹ ہوئے۔

کوئٹہ میں ایک نجی نیوز چینل سے وابستہ رپورٹر مختیار احمد (فرضی نام) کے مطابق بلوچستان میں ایک درجن کے قریب مسلح تنظیمیں سرگرم ہیں، جن کے علاوہ ریاستی اداروں اور بااثر قبائلی شخصیات کا دباؤ بھی موجود ہے۔ ان حالات میں سینکڑوں ایسی خبریں ہوتی ہیں جنہیں مکمل یا جزوی سیلف سنسرشپ کے ساتھ نشر یا شائع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مختیار احمد بتاتے ہیں کہ اپنے صحافتی کیریئر کے ابتدائی دنوں میں انہوں نے لاپتہ افراد سے متعلق ایک خبر فائل کی، جس پر اُس وقت کے حکومتی ترجمان نے انہیں براہِ راست کہا کہ ان کی رپورٹنگ غلط ہے۔ وہ لمحہ ان کے لیے شدید خوف کا باعث بنا۔ ان کے مطابق ایسے کئی مواقع آئے جب محسوس ہوا کہ خاموشی زیادہ محفوظ اور پُرسکون راستہ ہے۔
“بلوچستان ایک کنفلیکٹ زون ہے، یہاں بہت سی خبریں ایسی ہیں جنہیں روکنے میں ہی ہم اپنی بھلائی سمجھتے ہیں۔ خاموشی کے فیصلے یہاں روزانہ کی بنیاد پر ہوتے ہیں،” وہ کہتے ہیں۔

مختیار احمد کے مطابق یہاں صورتحال یہ ہے کہ اگر خبر کسی طاقتور کے خلاف ہو تو صحافی جانبدار کہلاتا ہے، اور اگر حق میں ہو تو غیر جانبدار۔

سپریم کورٹ کے وکیل قاسم مندوخیل ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر سیلف سنسرشپ آئین کے آرٹیکل 19 (آزادی اظہارِ رائے) کی روح کے منافی ہے۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں میں یہ اصول تسلیم کیا جا چکا ہے کہ اظہارِ رائے پر پابندی صرف قانون کے ذریعے اور مناسب جواز کے ساتھ ہی عائد کی جا سکتی ہے۔
“اگر صحافی خوف کے باعث خود سنسرشپ پر مجبور ہو جائیں تو یہ ان کی نہیں بلکہ ریاست کی ناکامی ہے،” وہ کہتے ہیں۔

قاسم مندوخیل کے مطابق سیلف سنسرشپ بذاتِ خود جرم نہیں، خاص طور پر اگر یہ جان، مال یا آزادی کے خوف، دباؤ، دھمکی یا ریاستی ناکامی کے باعث ہو۔ آئین پاکستان کے آرٹیکلز 19، 9 اور 4 کے تحت ریاست پر لازم ہے کہ وہ آزادی اظہار، صحافیوں کے تحفظ، قانون کے مطابق سلوک اور دباؤ ڈالنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کو یقینی بنائے۔

کوئٹہ میں گزشتہ دو دہائیوں سے بطور ایڈیٹر خدمات انجام دینے والے جاوید خان (فرضی نام) کے مطابق، ایڈیٹر کے لیے خبر سے زیادہ رپورٹر کی سلامتی اہم ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نواب اکبر بگٹی واقعے کے بعد بلوچستان جیسے کنفلیکٹ زون میں ایڈیٹنگ ایک معمولی ادارتی عمل نہیں رہی بلکہ ایک بقا کی ذمہ داری بن چکی ہے۔

“میں نے کئی خبریں اشاعت سے پہلے روکی ہیں۔ یہ تعداد گننے سے زیادہ ایک کیفیت ہے۔ بعض اوقات خبر مضبوط ہوتی ہے، شواہد موجود ہوتے ہیں، مگر ماحول اجازت نہیں دیتا۔ ایسے میں فیصلہ خبر کے خلاف نہیں بلکہ انسان کے حق میں ہوتا ہے،” وہ کہتے ہیں۔

جاوید خان کے مطابق بلوچستان میں ادارتی فیصلہ اور حفاظتی فیصلہ ایک باریک لکیر کے ذریعے جڑے ہوتے ہیں۔ یہاں ایڈیٹنگ محض الفاظ کی تراش خراش نہیں بلکہ یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ خبر چھپنے کے بعد رپورٹر محفوظ رہے گا یا نہیں، ادارہ دباؤ برداشت کر پائے گا یا نہیں، اور خاندان کو کسی خطرے کا سامنا تو نہیں ہوگا۔

نوجوان رپورٹرز کے لیے ان کا مشورہ سادہ مگر تلخ ہے:
“پہلے حالات کو پڑھو، پھر خبر کو۔ ہر سچ فوراً کہنے کے لیے نہیں ہوتا، اور ہر خاموشی بزدلی نہیں ہوتی۔ اپنی جان، اپنے خاندان اور اپنے مستقبل کو خبر سے کم مت سمجھو۔ وقت آئے گا، مگر شرط یہ ہے کہ آپ زندہ رہیں۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *