حاشیے پر دھکیلی گئی برادریاں، دبائی گئی آوازیں

پاراچنار کی ایک سرد صبح، درجنوں سینیٹیشن ورکرز تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (TMA) کے دفتر کے باہر جمع ہو کر احتجاج کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں خود لکھے ہوئے پلے کارڈز اور پرانی، ماند پڑ چکی تقرریوں کی پرچیاں تھیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے خیبر پختونخوا کے ایک حساس ترین ضلع میں گلیاں صاف کر رہے تھے، نالیاں کھول رہے تھے اور کچرا ٹھکانے لگا رہے تھے۔

ایک صبح وہ میونسپل کے ملازمین نہیں رہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *