
حناء محبوب
قسمت بیگ جو کہ ایک ٹرانس جینڈر ہے، جب وہ بولتی ہے تو اس کی آواز میں کوئی شکوہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے چہرے پر اطمینان ہوتا ہے۔ اس کا کہنا ہے وہ ایک ٹرانس جینڈر ہے اور یہ شناخت اِسے اللہ نے دی ہے اور وہ اللہ کی رضا میں راضی ہے۔
وہ کہتی ہے کہ اسے بچپن سے ہی احساس تھا کہ وہ باقی لوگوں سے مختلف ہے۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی گئی، ویسے ویسے اس کی شناخت ایک سوال بن گئی۔ گھر سے سوالات اٹھنے لگے، کچھ رشتے ٹوٹے، کچھ نے خاموشی اختیار کر لی اور کچھ نے صاف انکار کر دیا کہ اِس شناخت کے ساتھ وہ قبول نہیں۔ اس طرح قسمت نے اپنا راستہ اپنے گھر والوں سے الگ کر لیا۔
خاندان سے الگ ہونے کے بعد قسمت نے مظفرآباد شہر کو اپنا ٹھکانہ بنایا۔ اس کا کہنا ہے کہ دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ سکول کا زمانہ اس کے لیے آسان نہ تھا، دیگر بچے تو صرف سال کے آخر میں امتحان دیتے تھے، لیکن اسے روز ایک نئے امتحان سے گزرنا پڑتا تھا۔ کلاس میں نظریں اس پر ٹھہرتی تھیں، سوال اٹھتے تھے، سرگوشیاں ہوتی تھیں، اساتذہ کا غیر سنجیدہ رویہ، اور ہم عمر بچوں کا طنز ؛ یہ سب اس کی خود اعتمادی کو توڑنے کی کوشش کرتے تھے، لیکن اس سب کے باوجود ہار نہیں مانی، خود کو سمجھایا اور پڑھائی جاری رکھی۔
وہ کہتی ہیں کہ میٹرک کے بعد حالات نے ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا جہاں راستے ختم ہو گئے۔ روزگار کی تلاش اس کے لیے ایک نیا امتحان تھا۔ جب اور کوئی ذریعہ معاش نہ ملا تو اس نے پیٹ کی آگ بجانے کے لیے پروگرامز (ناچ گانا) شروع کیے۔
قسمت بیگ کا مزید کہنا ہے یہ اس کا پروفیشن نہیں، بلکہ مجبوری ہے، کیونکہ اس ملک میں ٹرانس جینڈرز کے لیے روزگار کے مواقع بلکل نہیں ہیں۔ اس نے یہ راستہ اس لیے چنا کیونکہ بھوک اور زمہ داریاں کسی وضاحت کی مہتاج نہیں ہوتی۔ ان تمام مشکلات کے دوران وہ کئی بار ذہنی دباؤ اور تنہائی کا شکار ہوئی، لیکن ہر بار اس نے خود کو سنبھالا اور اپنی شناخت کی جدوجہد جاری رکھی۔
قسمت کا کہنا ہے کہ اس کی زندگی کا سب سے مضبوط پہلو اس کی زمہ داریاں ہے۔ اس نے اپنی بہن کے 2 بچوں کو گود لیا ہوا ہے، جن کے والد اس دنیا میں نہیں رہے۔ قسمت ان بچوں کے لیے ماں بھی ہے اور باپ بھی۔ وہ چاہتی ہے کہ ان کی زندگی اس سے بہتر ہو ، وہ تعلیم حاصل کریں اور معاشرے میں عزت سے زندگی گزار سکیں۔
اپنی جدوجہد کے ساتھ وہ اپنی کمیونٹی کے مسائل سے بھی آگاہ ہیں۔ وہ جانتی ہے کہ ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو تعلیم ، روزگار ، صحت اور تحفظ جیسے بنیادی حقوق تک رسائی حاصل نہیں۔ اس کے مطابق حکومت کی جانب سے کبھی ان کے مسائل اور حل کے بارے میں کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ قوانین اور دعوے تو موجود ہیں، لیکن ان پر کوئی عمل درآمد نہیں۔
قسمت بیگ نے صرف شکوہ نہیں کیا، بلکہ عملی قدم بھی اٹھائے ہیں۔ وہ اپنی کمیونٹی کے لیے سوشل ورک بھی کر چکی ہیں۔ اس نے مختلف ورکشاپس اٹینڈ کی ہیں اور جہاں تک ممکن ہو سکا ہے اپنی آواز بلند کی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ ٹرانس جینڈر خود مختار بنیں اور اپنی شناخت خود بنائیں۔ وہ اپنے جیسے بے شمار لوگوں کی آواز بننا چاہتی ہے۔
آخر پر اس کا اپنی کمیونٹی کے لیے یہی پیغام ہے کہ اپنے لیے خود کھڑے ہوں ، محنت جاری رکھیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ اس کے نزدیک لوگ جینا مشکل بنا سکتے ہیں لیکن حوصلہ اور ایمان نہیں توڑ سکتے۔ اور اس معاشرے کے لیے اس کا یہی کہنا ہے کہ ٹرانس جینڈرز کو صرف سیکس ورکر کے طور پر نہ دیکھا جائے، بلکہ انسان سمجھا جائے۔ انہیں بھی وہی عزت ، قبولیت اور مواقع ملنے چاہیے جو ایک عام انسان کو ملنے ہیں کیونکہ یہ لوگ بھی معاشرے کا حصہ ہیں اور انسان ہیں





