مظفرآباد میں خواتین کی خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے وجوہات کیا ہیں ؟

گزشتہ 2 برس کے دوران مظفرآباد میں خواتین کی خودکشی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس المیے کی بنیادی وجہ گھریلو تشدد اور بلیک میلنگ ہے، جس کا شکار کئی خواتین آخرکار اپنی زندگی ختم کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

مظفرآباد کی تحصیل گڑھی دوپٹہ سے تعلق رکھنے والی ہادیہ بی بی (فرضی نام) نے بتایا کہ آج سے 3 سال پہلے میں نے اپنی بیٹی کی سالگرہ پر ایک کیمرہ مین کو مدعو کیا تھا، جو ایونٹ کی فوٹوگرافی کر رہا تھا۔ ایونٹ کے 2 ماہ بعد اسی شخص نے مجھے بلیک میل کرنا شروع کر دیا اور کہا کہ آپ کی تصاویر میرے پاس ہیں اور میں انہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دوں گا۔ میں اس بات سے ڈر گئی اور گھر والوں سے بات نہیں کی۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس شخص نے مجھ سے پیسوں کا مطالبہ کیا اور مختلف اوقات میں پیسے اور زیورات لے لیے۔

ہادیہ نے اس حوالے سے پولیس کے رویے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ جب میں متعلقہ تھانے گئی تو میری بات سنی نہیں گئی۔ پھر اسی شخص نے مجھے شادی کی پیشکش کی جسے میں نے ٹھکرا دیا تو اس نے میری تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیں۔ جب میں نے اس سارے معاملے کا ذکر گھر والوں کو کیا تو انہوں نے میری بات سنے بغیر مجھے گھر سے نکال دیا۔ اب میں اور میرے بچے تنہا اور بے یار و مددگار رہ رہے ہیں۔ میں پولیس کے اعلیٰ افسران کے پاس بھی گئی انہوں نے متعلقہ تھانے کو ہدایات جاری کر کے ایف آئی آر درج کروائی اور ملزم کو گرفتار کرنے کی یقین دہانی کرائی، مگر کئی ماہ گزرنے کے باوجود ملزم گرفتار نہیں ہوا اور نہ ہی کسی سرکاری ادارے نے میری مدد کی۔ اب میں اس نہج پر پہنچ چکی ہوں کہ اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میں اپنے بچوں کے ساتھ اپنی جان لے لوں گی۔

محکمہ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 2 سالوں کے دوران اسی تھانہ گڑھی دوپٹہ کی حدود میں 7 سے زیادہ خواتین نے خودکشی کر کے اپنی جانیں ضائع کی ہیں۔ سال 2024 میں ڈسٹرکٹ مظفرآباد میں 10 خواتین نے خودکشی کر کے اپنی جان گنوا دی، جبکہ سال 2025 میں 13 سے زائد خودکشی کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

ایس ڈی ایم اے واٹر ریسکیو یونٹ مظفرآباد کے ایک اہلکار کے مطابق سال 2024-25 میں ان کی واٹر ریسکیو ٹیم نے 35 کے قریب افراد کو زندہ بچایا، جن میں 14 خواتین شامل ہیں۔

ان واقعات کے پس پردہ گھریلو تشدد اور بلیک میلنگ ایک بڑی وجہ ہیں۔ جہاں آزاد کشمیر میں خواندگی کی شرح پاکستان کے مقابلے میں بلند ہے، وہاں ایسے واقعات میں اضافے کا رجحان تشویشناک ہے۔

ماہرِ نفسیات ڈاکٹر انعم نجم کے مطابق معاشرے میں سب سے بڑی وجہ خواتین کے لیے سوشل سپورٹ کا فقدان ہے۔ ہمارے معاشرے میں عموماً شادی کے بعد یہ سوچ رکھی جاتی ہے کہ خاتون کی زندگی مکمل طور پر شوہر کے ساتھ وابستہ ہے۔ میں نے اس طرح کے بہت سے کیسز دیکھے ہیں۔ ایک حالیہ کیس میں ایک لڑکی نے دریا میں چھلانگ لگا دی، مگر اسے زندہ بچا لیا گیا۔ اس کا شوہر روزمرہ کی بنیاد پر تشدد کرتا تھا۔ جب اس لڑکی کے والد سے بات کی گئی تو اس نے کہا کہ وہ اسے اپنے گھر میں نہیں رکھ سکتا، بلکہ اسے شوہر کے پاس ہی چھوڑ دے گا۔ متاثرہ خاتون کے والد نے کہا کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا یہ سماجی بے بسی عام ہے۔

ڈاکٹر انعم نے کہا کہ مظفرآباد میں صرف ایک دارالامان ہے جو خواتین کو 3 ماہ تک شیلٹر فراہم کرتا ہے اور اس کے بعد انہیں تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ خواتین کے پاس مسائل بتانے یا مدد لینے کے مناسب راستے دستیاب نہیں ہوتے۔ بہت سی خواتین اپنے مسائل کسی کو نہیں بتاتیں، کیونکہ انہیں کہا جاتا ہے کہ تم عورت ہو اور تمہیں برداشت کرنا ہوگا۔ یہی بات اکثر خواتین کو موت کی طرف لے جاتی ہے۔

ڈاکٹر انعم نے اپنی رائے دیتے ہوئے مزید کہا کہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اس میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ حکومت کو ایسے شیلٹر ہومز اور پروگرامز فراہم کرنے چاہئیں جہاں خواتین کو ہنر سکھا کر روزگار کے مواقع دیے جائیں تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں۔ پولیس اسٹیشنوں میں خواتین کے مسائل سننے اور حل کرنے کے لیے الگ یونٹس موجود ہونے چاہئیں۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تربیتی ورکشاپس کروائی جائیں تاکہ خواتین کو اپنے حقوق اور دستیاب رہنمائی کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ این جی اوز اس پورے عمل میں فعال کردار ادا کر سکتی ہیں مگر بدقسمتی سے آزاد کشمیر میں نہ تو حکومت اس معاملے میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے اور نہ خواتین کے حقوق کے علمبردار۔

اس تمام صورتحال پر جب آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر موجود ایم ایل اے سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو بیشتر تو ان واقعات سے ہی لاعلم تھیں اور انہوں نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کیا، جبکہ ایک ایم ایل اے نے بتایا کہ ڈیٹا کی عدم دستیابی اور واقعات کا کم رپورٹ ہونا اس مسئلے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

مظفرآباد میں خواتین کی خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات حکومتی اور معاشرتی سطح پر فوری اور عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔ متاثرہ خواتین کو فوری انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے۔ گھریلو تشدد اور بلیک میلنگ کے خلاف قوانین کا سخت نفاذ یقینی بنایا جائے۔ بصورتِ دیگر یہ المیہ بڑھتا رہے گا اور مزید خاندان اس اذیت ناک انجام کا شکار ہوں گے۔

رپورٹ ، ثاقب علی ، مظفر آباد آزاد اینڈ جموں کشمیر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *