
ملک بھر میں تعلیم اور ڈیجیٹل شمولیت کے بڑھتے ہوئے دعووں کے باوجود گلگت بلتستان آج بھی اعلیٰ تعلیم کے شدید بحران سے دوچار ہے، جہاں ہزاروں نوجوان، خاص طور پر لڑکیاں، بنیادی تعلیمی مواقع سے محروم ہیں۔ دور دراز اضلاع میں تعلیمی اداروں کی کمی، محفوظ ٹرانسپورٹ کا فقدان، سماجی قدغنیں اور بجلی کا مستقل بحران اس خطے میں تعلیم کو ایک مسلسل جدوجہد بنائے ہوئے ہیں، جس کا سب سے زیادہ اثر لڑکیوں پر پڑ رہا ہے۔
گلگت بلتستان میں اعلیٰ تعلیم کے لیے صرف 2 سرکاری جامعات، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت اور یونیورسٹی آف بلتستان سکردو موجود ہیں۔ اگرچہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے کیمپس گلگت، ہنزہ، غذر، چلاس اور اسکردو میں قائم ہیں، تاہم وادی استور آج بھی مکمل طور پر کسی یونیورسٹی کی سہولت سے محروم ہیں۔ استور کے طلبہ، خصوصاً لڑکیوں کو تعلیم کے لیے دیگر شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے، جس سے مالی، حفاظتی اور ثقافتی رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔
کئی طالبات محض اس وجہ سے تعلیم چھوڑ دیتی ہیں کہ ان کے والدین نہ تو انہیں دور بھیجنے کی اجازت دے سکتے ہیں اور نہ ہی اس کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں مجموعی خواندگی کی شرح تقریباً 53 فیصد ہے، تاہم صنفی فرق نمایاں ہے۔ مردوں میں خواندگی کی شرح 66 فیصد ہے ، جبکہ خواتین میں صرف 42 فیصد ہے۔
ڈسٹرکٹ دیامر میں صورت حال مزید تشویشناک ہے، جہاں خواتین کی خواندگی کی شرح بعض علاقوں میں 11 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اداروں تک محدود رسائی اور خواتین کے لیے علیحدہ سہولیات کی عدم موجودگی اس فرق کو مزید گہرا کر رہی ہے۔
چلاس کی ایک مقامی اسکول ٹیچر ثریا کے مطابق اکثر خاندان سماجی طور پر قدامت پسند ہیں، اور کو ایجوکیشنل اداروں میں بچیوں کو بھیجنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب مقامی سطح پر فیمیل کیمپس یا محفوظ تعلیمی ماحول دستیاب نہ ہو تو والدین کے لیے بیٹیوں کی تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، جس کا نتیجہ اکثر تعلیم کے خاتمے کی صورت میں نکلتا ہے۔
قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کی لیکچرر ڈاکٹر نبیلہ کے مطابق گلگت بلتستان کے بیشتر اضلاع میں صرف کو ایجوکیشنل کیمپس موجود ہیں، جبکہ مکمل طور پر خواتین کے لیے کوئی یونیورسٹی قائم نہیں۔ ان کے مطابق گلگت کا مرکزی کیمپس پہلے ہی شدید بھیڑ کا شکار ہے، جس کی وجہ سے بہت سی طالبات داخلہ لینے سے محروم رہ جاتی ہیں۔ جو خاندان مالی طور پر مستحکم ہیں وہ اپنی بیٹیوں کو اسلام آباد بھیج دیتے ہیں، مگر اکثریت کے پاس یہ سہولت نہیں ہوتی۔ طالبات خود بھی اس تعلیمی خلا کو شدت سے محسوس کرتی ہیں۔
گلگت سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ ماروی کہتی ہیں کہ گلگت بلتستان میں لڑکیوں کے لیے معیاری کالجز اور فیمیل یونیورسٹیز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کے مطابق یا تو طالبات کو شہر چھوڑنا پڑتا ہے یا پھر تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑتی ہے، جو ہر لڑکی کے لیے ممکن نہیں۔
تعلیم کے اس بحران کو ٹرانسپورٹ کے مسائل نے مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کئی علاقوں میں پہلے طالبات کے لیے مخصوص بس سروس موجود تھی جو اب ختم ہو چکی ہے۔ نجی ٹیکسیوں کے کرایے عام خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہیں جبکہ کریم یا اوبر جیسی سہولیات کو بھی اکثر خاندان لڑکیوں کے لیے محفوظ نہیں سمجھتے، جس کے باعث کم آمدنی والے اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کے لیے تعلیم تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔
سردیوں کے مہینوں میں بجلی کی طویل بندش نے بھی تعلیمی تسلسل کو متاثر کیا ہے۔ نومبر سے اپریل تک کئی علاقوں میں بجلی نہ ہونے کے باعث طلبہ آن لائن کلاسز اور ڈیجیٹل تعلیمی پروگرامز سے محروم رہتے ہیں، خاص طور پر وہ طالبات جو فاصلاتی یا آن لائن ڈگری پروگرامز میں داخل ہیں۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر خواتین کے لیے علیحدہ کیمپس، محفوظ ہاسٹلز، سستی اور محفوظ ٹرانسپورٹ، اور مستحکم بجلی و انٹرنیٹ سہولیات میں سرمایہ کاری نہ کی تو گلگت بلتستان کی ایک پوری نسل اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جائے گی۔ ان کے مطابق یہ صرف تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ خواتین کے معاشی مستقبل اور خطے کی مجموعی ترقی کا سوال بھی ہے۔
گلگت بلتستان کی لڑکیاں آج بھی پہاڑوں میں گونجتی خاموش آوازیں ہیں، جو تعلیم کے حق کے لیے سنائی تو دیتی ہیں مگر سننے والا کوئی نہیں۔ اگر یہ خاموشی برقرار رہی تو اس کے اثرات آنے والی دہائیوں تک اس خطے کے مستقبل پر نقش رہیں گے۔





