


45 لاکھ آبادی، 29 ہسپتال، ہیلتھ کارڈ نہیں، ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین کی سہولت ناپید
ثاقب علی
آزاد جموں و کشمیر کی آبادی 45 لاکھ 36 ہزار 896 نفوس پر مشتمل ہے، جن میں 51 فیصد خواتین اور 49 فیصد مرد شامل ہیں۔ اتنی بڑی آبادی کے لیے محکمہ صحت کے پاس صرف 29 سرکاری ہسپتال ہیں، جبکہ 46 رورل ہیلتھ سینٹرز، 236 بیسک ہیلتھ یونٹس اور 78 ڈسپنسریز کا وجود زیادہ تر صرف کاغذوں اور عمارتوں تک محدود ہو چکا ہے۔ ان مراکز میں نہ مکمل عملہ ہے نہ جدید مشینری اور نہ ہی تشخیصی سہولیات۔
محکمہ صحت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت آزاد کشمیر میں
352 سپیشلسٹ ڈاکٹرز
675 میڈیکل آفیسرز
82 ڈینٹل سرجن
711 نرسنگ اسٹاف
3099 پیرامیڈیکل اسٹاف
تعینات ہیں، یعنی اوسطاً ایک سپیشلسٹ ڈاکٹر پر تقریباً 12 ہزار 900 مریضوں کا بوجھ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے معیار کے مطابق ہر ایک ہزار افراد کے لیے ایک ڈاکٹر ہونا چاہیے، مگر آزاد کشمیر میں یہ تناسب کئی گنا زیادہ ہے۔
حکومت آزاد کشمیر نے مالی سال 2025-26 کے لیے صحت کے شعبے کو تقریباً 32 ارب روپے سے زائد بجٹ مختص کیا ہے، جس میں غیر ترقیاتی مد میں 26 ارب روپے سے زیادہ اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے تقریباً 6 ارب روپے شامل ہیں۔ بجٹ تقریروں میں یہ دعوے بھی کیے گئے کہ ہسپتالوں کو بہتر بنایا جائے گا، سہولیات بڑھائی جائیں گی اور ہیلتھ کارڈ اسکیم کو فعال کیا جائے گا۔
لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہیلتھ کارڈ آج بھی عملی طور پر فعال نہیں ہو سکا۔ غریب مریض آج بھی مجبوری کے عالم میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے نجی ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، جہاں ایک ایم آر آئی یا سی ٹی اسکین پر ہزاروں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ یہ اخراجات عام شہری کے لیے ناقابلِ برداشت ہیں اور کئی مریض بروقت علاج نہ ملنے کے باعث جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
آزاد کشمیر کے بیشتر سرکاری ہسپتال آج بھی ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ کینسر، فالج، دماغی چوٹ اور پیچیدہ اندرونی امراض کے مریضوں کو تشخیص کے لیے بڑے شہروں میں بھیجا جاتا ہے
پہاڑی اضلاع نیلم، جہلم ویلی اور حویلی میں صورتحال مزید دردناک ہے۔ کئی رورل ہیلتھ سینٹرز میں ڈاکٹر تو موجود ہیں مگر نہ لیبارٹری سہولت ہے، نہ الٹراساؤنڈ اور نہ ہی ایمرجنسی کے لیے ایمبولینس۔ گزشتہ سال گریس ویلی جیسے علاقوں میں تین سے چار کیسز رپورٹ ہوئے جہاں حاملہ خواتین بروقت طبی سہولت نہ ملنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولتیں آج بھی محض ایک خواب ہیں۔
45 لاکھ آبادی 29 ہسپتال، صرف 352 سپیشلسٹ ڈاکٹرز غیر فعال ہیلتھ کارڈ اور ایم آر آئی و سی ٹی اسکین کی عدم دستیابی یہ تمام اعداد و شمار ایک ایسی تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں آزاد کشمیر میں صحت کا نظام خاموشی کے ساتھ زوال پذیر ہے۔
حکومت بجٹ میں اضافے اور اصلاحات کے دعوے تو کر رہی ہے مگر عملی طور پر عوام کو آج بھی وہ سہولتیں نظر نہیں آ رہیں جن کا اعلان ہر سال کیا جاتا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ بحران مزید سنگین ہو گا اور سب سے زیادہ نقصان ان غریب اور دور دراز علاقوں کے لوگوں کو اٹھانا پڑے گا جن کے لیے صحت کی سہولت اب ایک بنیادی حق نہیں بلکہ ایک دور کا خواب بنتی جا رہی ہے۔





