
قبائلی ضلع اورکزئی میں تعلیمی سہولیات کی کمی اور تدریسی عملے کی شدید قلت کے باعث خواتین کے 32 اسکول بند پڑے ہیں۔ اس صورت حال نے نہ صرف خواتین کی شرحِ تعلیم کو متاثر کیا ہے، بلکہ قبائلی علاقوں میں لڑکیوں کے روشن مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق ضلع اورکزئی میں مجموعی طور پر 243 زنانہ سکول قائم ہیں، جن میں سے 2 ہائی، 4 مڈل، اور 26 پرائمری سکول بند پڑے ہیں۔ ان میں سے 12 سکول مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ 16 سکول دہشت گردی کے مختلف واقعات کے نتیجے میں جزوی نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سکولوں کی بندش کے باعث درجنوں دیہاتی علاقوں کی لڑکیاں تعلیم سے محروم ہو چکی ہیں، کیونکہ قریبی متبادل تعلیمی ادارے دستیاب نہیں ہیں۔ مزید برآں دوسرے پرائیویٹ ایجوکیشن سسٹم بھی نہیں ہیں۔
ضلع میں تدریسی عملے کی صورتحال بھی سنگین ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت خواتین اساتذہ کی 563 کے قریب اسامیاں خالی ہیں۔ اس کے باعث نہ صرف سکول بند ہو گئے ہیں، بلکہ جو سکول فعال ہیں وہاں بھی تعلیمی معیار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ متعدد سکولوں میں ایک یا دو اساتذہ کو درجنوں بچوں کی کلاسز سنبھالنی پڑ رہی ہیں۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فی میل) پروین بیگم نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس وقت خواتین اساتذہ کی بھرتی میں سب سے بڑی رکاوٹ خواتین میں مطلوبہ تعلیمی قابلیت کا نہ ہونا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ پالیسی میں خواتین کی بھرتی کے لیے بی ایس یا اس کے مساوی اعلیٰ تعلیمی معیار درکار ہے، جو قبائلی علاقوں کی بیشتر خواتین پوری نہیں کر سکتیں۔‘‘
ان کا کہنا تھا ’’ہم نے حکام بالا کو سفارش کی ہے کہ خواتین اساتذہ کی بھرتی کے لیے مطلوبہ کوالیفیکیشن میں نرمی کی جائے، اور بی ایس کی شرط ختم کر کے ایف اے، ایف ایس سی یا بی اے ایجوکیشن کی بنیاد پر مقامی خواتین کو روزگار دیا جائے تاکہ اسامیاں پُر ہوں اور تعلیم کا عمل دوبارہ بحال ہو۔‘‘
پروین بیگم نے مزید کہا کہ ’’اگر یہ اصلاحات کی گئیں تو نہ صرف تعلیمی ادارے دوبارہ فعال ہوں گے، بلکہ مقامی خواتین کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے جو قبائلی علاقوں میں خواتین کی خودمختاری کی جانب اہم قدم ہوگا۔‘‘
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’’خالی اسامیوں پر فوری بھرتیاں کی جائیں، تباہ شدہ سکولوں کی مرمت کا کام شروع کیا جائے، اور قبائلی علاقوں میں خواتین کی تعلیم کو ترجیح دی جائے، تاکہ معاشرہ پسماندگی سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔‘‘
سماجی رہنماؤں اور والدین نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان سکولوں کو جلد از جلد بحال کیا جائے، کیونکہ تعلیم ہی قبائلی خواتین کے بہتر مستقبل کی کنجی ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس نہ تو وسائل ہیں اور نہ ہی مواقع کہ وہ اپنی بیٹیوں کو دوسرے اضلاع میں تعلیم دلوا سکیں۔
یہ تمام صورتحال قبائلی خواتین کی تعلیم کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے، جس پر فوری توجہ نہ دی گئی تو آنے والے وقت میں شرح تعلیم میں مزید کمی اور سماجی مسائل میں اضافہ متوقع ہے۔
محمد عامر اورکزئی
آباد پاکستان اسائنمنٹ





