اوپن اے آئی ایک نئے چیلنج کے ساتھ

Spread the love

24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں OpenAI کے مقابلے میں DeepSeek کی کارکردگی کی تعریف کیے جانے کے بعد حکومتوں کے لیے نئے ChatGPT کا ورژن لانچ کیا جا رہا ہے اور Siemens Energy جو پیر کو مارکیٹ سیل آف میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والی کمپنیوں میں سے ایک تھی۔ وہ بھی گزشتہ روز 7% سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ مائکروسافٹ اور OpenAI تحقیق کر رہی ہے کہ آیا OpenAI کی ٹیکنالوجی سے ڈیٹا آؤٹ پٹ کو غیر مجاز طریقے سے چینی مصنوعی ذہانت کے سٹارٹ اپ DeepSeek سے منسلک گروپ نے حاصل کیا ہے؟
اس بات کے حوالے سے وہ لوگ جو اس معاملے سے واقف ہیں انکے مطابق مائیکرو سافٹ کے سیکیورٹی محققین نے پچھلے موسم خزاں میں اُن لوگوں کو دیکھا جن کا خیال ہے کہ وہ DeepSeek سے جڑے ہو سکتے ہیں اور وہ OpenAI کی ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (API) کا استعمال کرتے ہوئے بڑی مقدار میں ڈیٹا نکال رہے تھے، ان لوگوں کے مطابق جو اس معاملے کو راز رکھنے کی وجہ سے اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔
سافٹ ویئر ڈویلپرز API استعمال کرنے کے لیے لائسنس خرید سکتے ہیں تاکہ وہ OpenAI کے مخصوص مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو اپنے ایپلیکیشنز میں شامل کر سکیں۔

البتہ امریکی سٹاک مارکیٹ پیر کی سیل آف کے بعد منگل کا سارا دن پرسکون رہی ہے۔ کچھ سرمایہ کار واضح طور پر یہ محسوس کر رہے ہیں کہ چینی AI ایپ DeepSeek کی مقبولیت میں اچانک اضافے پر ردعمل زیادہ تھا۔ اس لیے وہ ان کمپنیز کے شیئرز خرید رہے ہیں جو گر گئے تھے۔ مگر یہ بحالی سب کے لیے یکساں نہیں رہی۔

مائیکروسافٹ کا گراف بھی کل 2% سے زیادہ بڑھا ہے اور سیل آف سے پہلے کی سطح سے بھی اوپر جا چکا ہے۔
دوسری جانب اگرچہ Nvidia کا گراف کل 6% بڑھا ہے،
امریکی سٹاک مارکیٹ پر تجارت آج سے معمول پر آنا شروع ہو جائے گی کیونکہ آج اور کل DeepSeek کے ردعمل کے بعد مارکیٹیں دوبارہ استحکام کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ یہ جزوی طور پر اس لیے ہے کیونکہ مارکیٹیں معلومات پر فوراً ردعمل دیتی ہیں البتہ سٹاک کی قیمتوں کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہیں اس لیے بھی کہ DeepSeek نے خاموشی اختیار کر لی ہے۔

جنوبی چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق DeepSeek نے چینی نئے سال کی تعطیلات کے لیے ہولی ڈے موڈ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹیک کمپنی Nvidia کل کے زبردست گرنے کے بعد بحالی کے ہلکے آثار دکھا رہی ہے۔ جسکا گراف 6% سے زیادہ بڑھ چکا ہے جبکہ پیر کو اس کی قیمت میں 17% کمی ہوئی تھی۔
مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ تو آتا رہتا ہے جیسا کہ
ماضی میں کئی ایسی ٹیکنالوجیز، ایپس اور ویب سائٹس وائرل ہوئیں جو پھر مختصر مدت میں ہی مشہور ہو کر کسی نہ کسی وجہ سے ختم ہو گئیں یا انکی مقبولیت کم ہو گئی۔ اسی طرح کانٹینٹ یا خبر بھی مشہور ہوجاتی ہے جسکی بنیاد تھمب نیل سیریز ہوتی ہے۔

تھمب نیل سیریز وائرل ہونے کا ایک ایسا طریقہ ہے جس میں آپ پنچ کرنی والی لائن اور چبھتے ہوئے جملے لکھیں جس سے ایک تھرل پیدا ہو اور آپکی چیزیں وائرل ہو جائیں۔
اسکی بنیادی نفسیات ہی یہ ہے کہ ایک جوش دلانے والا جملہ یا ایج اور سپارک والی لائن پیش کر دی جاتی ہے، باقی صارفین میں کوئی اسکی سرچ میں جاتا ہے، کوئی تنگ آجاتا ہے ، کوئی واک آؤٹ کر جاتا ہے۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کتنے لوگوں نے ری ایکشن دیا ، جو ایک خاص تعداد سے بڑھ جاتا ہے تو وہ چیز وائرل شمار ہوجاتی ہے۔
اس میں مواد کیا ہے؟
اس مواد کی علمی حیثیت کیا ہے؟
خبر کی حیثیت کیا ہے؟ یہ سب ثانوی چیزیں ہوتی ہیں۔

اسی طرح چائنا میں جو سستی چیزیں پیش کی جاتی ہیں وہ بنیادی طور پر کاپی ہوتی ہیں۔ یہ چائنا کا ایک edge ہے جو مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کی صورت میں فائدہ لیتا ہے۔ دوسرے ممالک بھی یہ جانتے ہیں کہ ان کے پاس کیا صلاحیت ہے اور چائنا کس صلاحیت سے کام لے رہا ہے تو یہ چیزیں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ کوئی انہونی ہوگئی۔
البتہ اسکو پیش کرنے کا ایک یہ انداز ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوجاتا ہے۔ جس طرح یوٹیوب پر بھی ویڈیو پیش کرتے ہوئے ایک تھمب نیل سے کام لیتے ہیں اور تھمب نیل اس ویڈیو کو وائرل کر دیتا ہے۔ اندر کیا ہے یہ بہت سارے صارفین کے لیے ثانوی چیز ہوتی ہے۔ تو سوشل میڈیا پر بھی کئی لوگوں نے ایک خبریہ انداز سے ایک سرخی جمائی اور اسکو تھمب نیل کے انداز میں پیش کیا۔

در حقیقت ایسی چیزیں جو اِتنی تیزی سے آگے بڑھتی ہیں وہ اُتنی ہی تیزی سے اپنی اہمیت بھی کھو دیتی ہیں۔ پھر یہ کسی حوالے یا کتاب کا حصہ نہیں بنتیں ، ایک عارضی ٹرینڈ بن جاتی ہیں۔

جیسے سوشل میڈیا پر ہم سمجھتے ہیں کہ فلاں کی فلاں چیز وائرل ہوگئی تو اسکو وہ فیم بھی مل گئی اور اگر مل بھی جائے تو تیزی سے اُڑنے والی اور اس طرح بزنس کرنے والی جو چیزیں ہوتی ہیں انکی وہی نیٹ ورتھ ہوتی ہے جو انکو وقتی طور پر مل گئی ہوتی ہے بعد میں انکی اہمیت پھر نہیں رہتی۔

ان میں سے جو کافی مشہور رہی ہیں ان میں سب سے پہلے بات کرتے ہیں فیسبک کی ، جسکا وائرل ہونے کا وقت 2004ء سے 2010ء تک بہت زیادہ تھا۔ فیس بک شروع میں کالج کے طلباء کے لیے ایک نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم بنا لیکن پھر یہ پوری دنیا میں مقبول ہو گیا۔ ابتدائی طور پر اس کا استعمال بہت تیز تھا اور یہ سوشل میڈیا کا سب سے بڑا پلیٹ فارم بن گیا۔
حالانکہ اب فیس بک کی مقبولیت میں اُس لحاظ سے کافی حد تک کمی آئی ہے اور نوجوانوں کے درمیان اس کا استعمال کم ہو رہا ہے خاص طور پر یورپ میں۔
میرے کئی ایسے غیر ملکی ، برٹش ، امریکن کلاس فیلوز ،کولیگز ، دوست ہیں جو فیسبک پر تو ہیں مگر سال ہا سال سے تقریباً استعمال چھوڑ چکے ہیں۔ اب فیسبک کا سپورٹ سسٹم بھی کئی معاملات میں تعطیل کا شکار ہے۔

فیسبک کے بعد اسی کا دوسرا ورژن میسنجر ایس تھا جسکا وائرل ہونے کا وقت 2011 سے 2015 تک تھا۔ فیس بک میسنجر شروع میں فیس بک کا ایک حصہ تھا ، لیکن بعد میں اسے ایک علیحدہ ایپ کے طور پر پیش کر دیا گیا۔ لوگوں نے اس ایپ کا استعمال بہت بڑھایا لیکن اب اس کی جگہ دوسرے پیغام رسانی کے ایپس جیسے واٹس ایپ نے لے لی۔

اسی طرح IMO کا بھی ایک دور رہا۔
پھر ایک ایپ وائن کے نام سے آئی تھی جو 2013 سے 2016 تک ، تین سال عروج پر رہی۔ یہ ایک چھوٹی ویڈیو شیئرنگ کا پلیٹ فارم تھا جس میں 6 سیکنڈ کی ویڈیوز بنائی جاتی تھیں اور ان کا شیئر کیا جاتا تھا۔ لیکن پھر 2016ء میں اسے بند کر دیا گیا۔

اسکے بعد آئی Flicker فلیکر بھی ایک مشہور فوٹو شیئرنگ ویب سائٹ تھی جو تصویروں کی سٹریمنگ کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ اس کی مقبولیت اس وقت بہت زیادہ تھی، مگر گوگل فوٹوز اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز کی مقبولیت بڑھنے کے بعد اس کا استعمال کم ہوتا گیا۔
اسی طرح گوگل پلس (Google Plus) بھی 2011ء سے 2013ء تک مقبول رہی، گوگل پلس کو ایک سوشل نیٹ ورک کے طور پر لانچ کیا گیا تھا تاکہ فیس بک کا مقابلہ کیا جا سکے لیکن یہ کبھی بھی فیس بک کی مقبولیت کے قریب نہیں پہنچ سکا اور 2019 میں گوگل نے اسے بند کر دیا۔

اسی طرح پرک (Periscope) کا عروج دو سال2015 سے 2017 تک رہا۔ یہ بھی ایک لائیو سٹریمنگ ایپ تھی۔ جس کا استعمال فوری طور پر وائرل ہو گیا تھا۔ لوگ اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو لائیو نشر کرنے کے لیے اسے استعمال کرتے تھے۔ تاہم بعد میں ٹویٹر نے اس ایپ کو بند کر دیا اور انسٹاگرام لائیو اور فیس بک لائیو جیسے فیچرز نے اس کا مقابلہ کر لیا یوں اسکا اختتام ہوگیا۔
اسی طرح شروع میں 2010 سے 2015 تک کورا (Quora) مشہور ہوئی کورا ایک سوال ، جواب کی ویب سائٹ ہے، جہاں لوگ مختلف موضوعات پر سوالات پوچھتے اور جوابات دیتے ہیں۔ اس کی مقبولیت خاص طور پر اس لیے تھی کہ یہاں معروف شخصیات اور ماہرین بھی جوابات دیتے تھے، لیکن حالیہ برسوں میں اس کی مقبولیت میں کمی آئی ہے اور دوسرے پلیٹ فارمز جیسے ریڈٹ نے اسے پیچھے چھوڑ دیا البتہ کیورا اب بھی موجود ہیں اور مجھے یہ اب بھی بہترین پلیٹ فارم لگتا ہے۔
اسی طرف کیک (Keek) 2011ء سے 2014ء تک عروج پر رہی یہ بھی ایک ویڈیو شیئرنگ ایپ تھی ، جس میں 36 سیکنڈ کی ویڈیوز شیئر کی جاتی تھیں۔ اس کا استعمال نوجوانوں میں بہت زیادہ تھا، لیکن پھر یوٹیوب اور انسٹاگرام کی آمد نے اس ایپ کی مقبولیت کم کر دی اور یہ بھی بند ہو گئی۔
اسی طرح (Meerkat) جو 2015 میں بہت وائرل ہوئی یہ بھی ایک لائیو سٹریمنگ ایپ تھی جو مختصر مدت میں بہت مشہور ہوئی۔ لیکن اس کا مقابلہ پرک (Periscope) سے تھا، اور بعد میں اس ایپ کا استعمال کم ہو گیا۔ اس نے لائیو سٹریمنگ کے تصور کو مقبول بنایا مگر وہ تصور زیادہ دیر تک کامیاب نہ رہ سکا۔
چین کی کئی پراڈکٹس اور ٹیکنالوجیز ایسی رہی ہیں جو ایک وقت میں بہت زیادہ وائرل ہوئیں اور اتنی مقبول ہو گئیں کہ ان کی شناخت تبدیل ہو گئی یا وہ مارکیٹ میں زیادہ نظر نہیں آئیں۔ ان میں سے کچھ مشہور پراڈکٹس یہ ٹک ٹاک ہے TikTok (Douyin) جو امریکہ میں بین ہوچکی ہے ، یہ 2016ء سے اب تک ایسی ایپ ہے جو دنیا بھر میں وائرل ہو چکی ہے اور اس کا مقابلہ دنیا بھر کی سوشل میڈیا ایپس سے ہے۔ اس کی مقبولیت نے اس کی شناخت بدل دی ہے اور یہ اب ایک عالمی ٹرینڈ بن چکا ہے۔ حالانکہ اس کا چینی ورژن Douyin ابھی بھی چین میں دستیاب ہے، لیکن ٹک ٹاک نے شناخت بدل کر پوری دنیا میں شہرت حاصل کر لی ہے۔

اسی طرح ہواوے ایک چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہے جو موبائل فونز، ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس اور دیگر ڈیجیٹل پراڈکٹس کی تیاری میں مشہور ہوئی۔ جب تک اس کا عالمی مارکیٹ میں راج تھا، اس نے سام سنگ اور ایپل کو سخت مقابلہ دیا۔ لیکن امریکی پابندیوں اور سیکیورٹی خدشات نے اس کی مارکیٹ پوزیشن کو متاثر کیا، اور اس کا اثر ہواوے کی شناخت پر پڑا ، نتیجے میں ایپل آج سب سے اوپر جا رہی ہے۔

پھر آتی ہے WeChat وی چیٹ چین کی ایک سوشل میڈیا ایپ ہے ، جس نے دنیا بھر میں اپنے پیغام رسانی، سوشل نیٹ ورکنگ اور ادائیگی کے نظام کے ذریعے مقبولیت حاصل کی۔ اگرچہ وی چیٹ کی اہمیت چین میں اب بھی برقرار ہے، لیکن عالمی سطح پر اس کی شناخت کچھ حد تک محدود ہو گئی ہے کیونکہ دیگر ایپس جیسے واٹس ایپ اور فیس بک نے زیادہ مقبولیت حاصل کرکے وی چیٹ کو پیچھے چھوڑ دیا۔
اسی طرح Xiaomi (شیاومی 2010 سے 2015 تک مقبول رہی ، شیاومی چینی کمپنی جو اسمارٹ فونز، اسمارٹ گھریلو آلات، اور دیگر ٹیکنالوجیز فراہم کرتی ہے۔ شیاومی نے ابتدا میں سستی قیمتوں اور اعلیٰ معیار کی پراڈکٹس کی وجہ سے عالمی سطح پر بہت شہرت حاصل کی، مگر پھر اس کی ترقی کی رفتار سست پڑ گئی کیونکہ زیادہ عالمی برانڈز نے اس کی جگہ لے لی۔

اسی طرح Gionee 2013 سے 2017 تک جیونی جو ایک چینی اسمارٹ فون برانڈ تھا۔ جس نے ایک وقت میں عالمی سطح پر شہرت حاصل کی تھی۔ اس نے کم قیمت پر اچھے فیچرز دینے کا وعدہ کیا تھا اور ایک بڑی مارکیٹ حصے کی مالک بن چکی تھی۔ تاہم، کم قیمتوں اور بڑی مارکیٹ کے مقابلے میں بڑھتے ہوئے مقابلے کے باعث اس کی شناخت بتدریج کم ہو گئی۔ اسی طرح Oppo ،Vivo ، Meitu (میٹو)، LeEco ، QQ نے بھی اپنی شناخت کھو دی۔

یہ تمام پراڈکٹس اور ایپس ایک وقت میں وائرل ہوئیں اور عالمی سطح پر مقبول ہوئیں، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر ان کی شناخت کم ہو گئی یا وہ اب اتنی مقبول نہیں رہیں۔
یہ جس طرح وائرل خبریں ہوتی ہیں اسی طرح وائرل پراڈکٹ بھی ہوتی ہیں۔ چین کی مارکیٹ کا طریقہ یہ ہے کہ یہ وائرل سائٹس کے ذریعے بزنس اچھا کر جاتی ہے، تو پھر فوراً وہ مارکٹ سے غائب ہوجاتی ہے اور اسکی جگہ پھر کوئی اور چیز آجاتی ہے۔ وہ اپنی اصل شناخت بر قرار نہیں رکھ سکتی یا اسکی شناخت کی جگہ ایک اور شناخت آجاتی ہے یہ بھی چین کا ایک ہنر ہے۔
امریکہ کی جتنی انڈسٹری ہے وہ privately owned ہے، اس میں اگر ایک پراڈکٹ ہے تو اس میں ہر چیز کی علیحدہ کمپنی ہے، ہارڈ وئیر کی الگ کمپنی ہے ، سافٹ ویئر کی الگ ہے، سٹرکچرز کی الگ ہے، یعنی تقریباً آٹھ کمپنیاں اکٹھی کرکے ایک پراجیکٹ پر کام کرتی ہیں۔

یہ ہو نہیں سکتا کہ جتنے سکرپٹ بورڈز ہیں یا سافٹ ویئرز ہیں تو یہ pirated نہ ہوں ، ایک اوپن سورس کوڈ سے لے لیا ہوگا اور پھر اسکو چینی میں تبدیل کرکے لانچ کردیا ہوگا۔ چینی پراڈکٹ کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اِن کا محدود ایڈیشن ہوتا ہے اور انکا سپورٹ سسٹم نا ہونے کے برابر ہے۔

یہ سب کھائے پیئے بغیر تحقیق و تحریر کرنے سے دماغ کمزور ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر من تشاء چیمہ


Spread the love

Leave a Comment