سیاست میں اعلیٰ ظرفی ناگزیر

ہمارا ملک اس وقت مختلف قسم کے چیلنجز سے دو چار ہے۔ سیاسی صورتحال کو دیکھیں تو عوام میں ایک غیر معمولی بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ معاشی مشکلات اپنی جگہ موجود ہیں، مگر افسوس کہ عوامی ریلیف پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔ سیاست کے ہر حلقے میں عوام کی وابستگیاں، پسند و ناپسند اور رجحانات ہوتے ہیں، جو ان کا پورا حق ہے۔

سیدھی بات یہ ہے کہ عمران خان، جو عوام میں ایک مقبول لیڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں، اس وقت مختلف کیسز میں 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں، 4 نومبر 2025 کے بعد ان کی ملاقات نہ تو ان کی بہنوں سے کروائی جا رہی ہے اور نہ ہی پارٹی رہنماؤں سے۔

اس سے پہلے جب عمران خان کوئی پیغام دیتے تھے، تو علیمہ خانم میڈیا کے ذریعے اسے نشر کرتی تھیں اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر اسی پیغام کے حوالے سے بحث اور تبصرے ہوتے تھے۔ پورا سوشل میڈیا عمران خان کے پیغامات سے گونج اٹھتا تھا۔

تاہم، اچانک یہ سلسلہ حکومتی حلقوں کی جانب سے بند کر دیا گیا اور موقف اختیار کیا گیا کہ یہ ملاقاتیں سیاسی تحریک چلانے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھی کافی افواہیں گردش کر رہی تھیں، جس پر حکومت نے وضاحتی بیانات جاری کیے ہیں کہ وہ اڈیالہ جیل میں ہیں اور بالکل صحت مند ہیں۔

اب ملاقات نہ کروانے کے اس مسئلے نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ حکومتی حلقوں اور اپوزیشن، خصوصاً تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے تبصرے، تجزیے اور بیانات میڈیا کی سرخیوں کا حصہ بن گئے ہیں۔ بیان بازیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے کوئی وضاحتیں دے رہا ہے، کوئی الزامات عائد کر رہا ہے، تو کوئی اسے آئینی و غیر آئینی ہونے کے زاویے سے دیکھ رہا ہے۔

اڈیالہ جیل کے باہر پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں نے وہاں ہجوم اکٹھا کرنے اور باضابطہ طور پر اپنا احتجاج رجسٹر کرنے کی بھرپور کوشش کی، جس کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھائے گئے مگر کوئی جواب نہ ملا۔

اس پورے معاملے اور موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو حکومت کی ضد، طنزیہ رویّہ اور پی ٹی آئی کی بار بار کی مزاحمتی کوششیں بیانات، احتجاجی کیفیات اور ایک دوسرے پر میڈیا میں تنقید ملک کو کسی قسم کا فائدہ نہیں دے رہیں۔ بلکہ صرف جگ ہنسائی کا باعث بن رہی ہے اس سے نہ معیشت میں بہتری آ رہی ہے، نہ دہشت گردی میں کمی، اور نہ ہی ریاست کو درپیش بڑے چیلنجز حل ہو رہے ہیں۔ عوامی مسائل پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جا رہی، بلکہ الٹا بے چینی اور اضطراب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ان معاملات نے عوام کو ایسی غیر متعلقہ باتوں میں الجھا دیا گیا ہے جن سے براہ راست نہ ان کا کوئی واسطہ ہے، نہ فائدہ، اور نہ ہی ان سے کسی مسئلے کا حل نکلتا ہے۔

ایسے حالات میں ضروری ہے کہ حکومت اعلیٰ ظرفی اور برداشت کا مظاہرہ کرے۔ اگر انہیں خدشہ ہے کہ ملاقات کے باعث انتشار پھیل سکتا ہے، تو یہ بھی حقیقت ہے کہ ملاقات نہ کرانے سے بھی تناؤ برقرار رہتا ہے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ حکومتی رِٹ قائم رکھتے ہوئے معاملات کو ٹھنڈا کرنے کا راستہ اختیار کیا جائے۔

سیاست کو رسہ کشی کے بجائے ایک سیاسی عمل کے طور پر آگے بڑھانا چاہیے۔ تحریک انصاف بھی ایک بڑی جماعت ہے اور اس کے بانی چیئرمین جیل میں ہیں، جو موجودہ صورتحال کا اہم حصہ ہے۔ اس لیے حکومت کو لچک دکھاتے ہوئے ملاقات کی اجازت دے کر ماحول میں پھیلے انتشار کو کم کرنا چاہیے۔

تحریکِ انصاف کے موجودہ رہنماؤں کو بھی چاہیے کہ وہ بھی سیاسی اعلیٰ ظرفی کے تحت مزاحمتی رویّہ کم کرکے مفاہمت کا راستہ اختیار کریں۔ حکومت سے بات چیت کے ذریعے ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ قومی مسائل خصوصاً خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر توجہ دیں۔ باہمی لچک اور سمجھوتے کے ساتھ آگے بڑھیں تاکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے راستے ہموار ہو سکیں۔

ہماری موجودہ سیاست میں بات چیت کی پوری گنجائش موجود ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو لعن طعن اور رسہ کشی چھوڑ کر مفاہمت سے بیٹھنا چاہیے، کیونکہ سیاست مختلف ہو سکتی ہے مگر عوام سب کی مشترکہ ذمہ داری ہیں۔ پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں کو چاہیے کہ ذاتی اور جماعتی تنازعات سے ہٹ کر عوامی فلاح کو ترجیح دیں۔ اصل مسائل پسِ پشت ڈالنے سے نہ ملک ترقی کرتا ہے، نہ عوام کی مایوسی کم ہوتی ہے۔ لہٰذا اس پوری طرزِ سیاست کو بدلنا اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سیاست میں صرف سیاسی بات ہونی چاہیے۔ اقتدار یا اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کسی کو نیچا دکھانا، گرانا، برا بھلا کہنا یا ٹانگ کھینچنا سیاست نہیں۔ ایک ہی ملک، ایک ہی پرچم اور ایک ہی قوم ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ ایسا طرزِ عمل جمہوریت اور عوام دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس سے نوجوانوں میں فرسٹریشن بڑھتی ہے جو مختلف جرائم کا باعث بنتی ہے۔

اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان صوبہ خیبرپختونخوا کا ہو رہا ہے ، جہاں اعداد و شمار کے مطابق بدامنی، بیڈ گورننس اور بے روزگاری سب سے زیادہ ہے اور مزید بڑھ رہی ہے۔ جس کی ایک وجہ صوبائی حکومت کی تقریباً مکمل توجہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر مرکوز ہونا بھی ہے، جس سے وہ کاروبارِ حکومت کو وقت اور توجہ نہیں دے پا رہے۔

ریاست تو ماں کا کردار ادا کر کرتی ہے، ریاست ماں اگر صوبہ کی مفاد کی خاطر بانی پی ٹی آئی کیلئے درمیانہ راستہ اختیار کرے تو خیبر پختونخوا میں گورننس ، امن اور روزگار میں بہتری کے امکانات مزید روشن ہو سکتے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست میں ایسا رویّہ اور طرزِ عمل اختیار کیا جائے جو معاشرے کو بہتر بنائے۔ ملک کو ایسی سوچ، عملی حکمتِ عملی اور اقدامات کی سخت ضرورت ہے جن میں عوام کو مرکز میں رکھا جائے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہی نقطہ نظر اپنانا چاہیے۔

تحریر: ثروت حنا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *