جمہوریت کی شکست، قانون کی موت، کیا ہم واقعی ایک آزاد ریاست ہیں؟؟؟

Spread the love

حمزہ احسان

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں جب طاقت کے زور پر انصاف کا گلا گھونٹا گیا، مگر جو کچھ گزشتہ چند برسوں میں ہوا ہے، وہ ہمارے سیاسی، عدالتی اور جمہوری نظام کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو رہا ہے۔
ایک صوبے کا منتخب چیف منسٹر، جو چار کروڑ افراد کے مینڈیٹ کا نمائندہ ہے، اپنے قائد سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل جاتا ہے۔ عدالتِ عالیہ اسلام آباد سے باضابطہ اجازت نامہ موجود ہے، مگر اس کے باوجود ملاقات نہیں کرائی جاتی۔ وجہ کسی کے پاس نہیں۔ حکومت کی بے بسی کا یہ عالم کہ وہ خود بھی نہیں جانتی کہ اسے کس کے حکم پر چلنا ہے اور ملاقات کیوں رکوائی جا رہی ہے۔ سردی کی شدید رات میں وزیر اعلیٰ اور سینکڑوں کارکنان اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھ کر احتجاج کرتے رہے، جبکہ پولیس کی بھاری نفری پہرے پر مامور رہی۔ یہ منظر خود بتا رہا تھا کہ جمہوریت نہیں، صرف طاقت کا کھیل چل رہا ہے۔

اصل افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی عدلیہ آج بے حیثیت ہو چکی ہے۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے حکم کی تعمیل نہ ہونا، رول آف لا کا نہ ہونا، اور ریاستی اداروں کا ایک مخصوص طاقت کے سامنے بے بس ہو جانا، یہ سب ہمارے اس سسٹم کی کھلی ناکامی کا ثبوت ہے۔ ملک اب قانون نہیں، افراد کی خواہشات کے مطابق چل رہا ہے۔ جیسے پورا ملک صرف ایک شخص کے ہاتھ میں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے خلاف جو سلسلہ مسلسل جاری ہے، اس کی جڑیں صرف آج کی نہیں، بلکہ ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ 8 فروری کے عام انتخابات سے قبل ہی ایسی کارروائیاں شروع ہو گئی تھیں جن کی مثال دنیا کی کسی جمہوریت میں نہیں ملتی۔ ایک بڑی سیاسی جماعت سے انتخابی نشان چھین لیا گیا، امیدواروں کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے سے روکا گیا، گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا، پری پول دھاندلی اپنی بدترین سطح پر نظر آئی۔
انتخابی مہم میں پی ٹی آئی کے کارکنان اور نمائندگان کے ساتھ جس بدترین سلوک کا مظاہرہ کیا گیا، وہ سب کے سامنے ہے۔ بعض مقامات پر امیدواروں کو جلسہ کرنے تک کی اجازت نہیں دی گئی۔ میڈیا پر پابندیاں، کوریج روکنے کے احکامات، اور اصل سیاسی مقابلہ ختم کرنے کی سرکاری کوششیں، یہ سب ایک منظم انتخابی انجینئرنگ تھی۔

8 فروری، عوام کا فیصلہ ۔۔
جب 8 فروری کو پاکستانی عوام نے ہر رکاوٹ کو توڑتے ہوئے اپنا فیصلہ سنا دیا تو طاقت کے مراکز کیلئے یہ قابلِ قبول نہ تھا۔ ووٹوں کی گنتی رک گئی، نتائج تبدیل ہو گئے، فارم 45 تبدیل کیے گئے، آزاد امیدواروں کے جیتے ہوئے حلقے مختلف طریقوں سے چھین لئے گئے۔ عالمی میڈیا اور مقامی مبصرین نے کھلے لفظوں میں کہا کہ انتخابات شفاف نہیں تھے۔ مگر طاقت پر مبنی نظام نے ان سب حقائق کو روند کر اپنی مرضی کی حکومتیں قائم کر دیں۔

26 نومبر، ڈی چوک کی وہ رات۔۔

26 نومبر کی وہ دردناک رات بھی ہماری سیاسی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، جب ڈی چوک میں پرامن لوگوں پر براہ راست فائرنگ کی گئی۔ ریاست نے اپنے ہی شہریوں کو دشمن سمجھ کر نشانہ بنایا۔ لوگوں کے گھروں کے باہر چھاپے مارے گئے، کارکنان کو اٹھایا گیا، اور میڈیا کو مکمل طور پر اس آپریشن کی کوریج سے روکا گیا۔ یہ سب جمہوریت کے نام پر ہوا، قانون کے نام پر ہوا، مگر حقیقت یہ تھی کہ طاقت کی برتری ثابت کرنے کیلئے انسانوں کی قربانی دی گئی۔

جمہوریت کا جنازہ۔۔۔

اب موجودہ صورتحال دیکھ لیجیے، ایک قیدی، سابق وزیر اعظم عمران خان جنہیں آئین کے مطابق اہل خانہ، وکلاء اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کا پورا حق حاصل ہے، مگر اس حق کو بھی طاقت کے زور پر روک دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات روکنا صرف ایک شخص کی توہین نہیں، یہ خیبر پختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔ یہ صوبائی خودمختاری پر حملہ ہے۔ یہ ثابت کرنے کی کوشش ہے کہ ووٹ، مینڈیٹ، عوامی طاقت، یہ سب ثانوی ہیں۔ حتمی اختیار کسی اور کے پاس ہے۔

عدلیہ مفلوج، ججز مفلوج

آج نہ عدالتوں کے فیصلوں کی قدر ہے، نہ ججز کی رِٹ باقی رہی ہے۔ ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ملاقات نہ ہونا اس بات کا اعلان ہے کہ ملک میں آئین یا قانون نہیں، صرف ایک ”خاموش طاقت“ کا حکم چلتا ہے۔ فیصلے کمرۂ عدالت میں نہیں، کہیں اور ہوتے ہیں۔ ججز خود اس بے بسی کا اظہار کر چکے ہیں، مگر کوئی سننے والا نہیں۔

صحافیوں کی گرفتاریاں، سچ بولنے کا جرم۔۔

آج صحافیوں کو صرف اس لئے گرفتار کیا جاتا ہے کہ وہ زمینی حقائق رپورٹ کرتے ہیں۔ جو کچھ گراؤنڈ پر ہو رہا ہے، وہ اگر قوم کو بتا دیں تو انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔ سچ… اب اس ملک میں جرم بن چکا ہے۔

سوال یہ ہے، کیا ہم آزاد ہیں؟

ایک ایسا ملک جہاں وزیر اعلیٰ کو اپنے لیڈر سے ملنے کی اجازت نہیں، جہاں عدالتوں کے فیصلے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیے جاتے ہیں، جہاں سیاسی جماعتوں سے نشان چھین لئے جاتے ہیں، جہاں انتخابات عوام نہیں، طاقت جیتتی ہے، جہاں صحافی جیلوں میں ڈالے جاتے ہیں، تو پھر یہ کیسی جمہوریت ہے؟ کیسا آئین؟ کیسا نظام؟

یہ سب ہمیں بتا رہا ہے کہ ہم ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ یا تو ہم اس ”جنگل کے قانون“ کو ہمیشہ کے لئے قبول کر لیں، یا پھر اس حقیقت کو مانیں کہ جمہوریت کی بحالی کیلئے آواز اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کوئی طاقت ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔ عوام کی آواز کبھی مکمل طور پر نہیں دبائی جا سکتی۔ یہ ظلم، یہ جبر، یہ بے انصافی، سب رکے گی۔ اور جب رکے گی، تو تاریخ لکھے گی کہ اس تاریک دور میں بھی کچھ لوگ سچ بولتے رہے تھے۔۔۔۔۔


Spread the love

Leave a Comment