آزاد جموں و کشمیر میں معلومات تک رسائی کا قانون تاحال عملی شکل اختیار نہ کر سکا، جس کے باعث صحافیوں سمیت عام شہریوں کو سرکاری اداروں سے مستند اور بروقت معلومات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
آر ٹی آئی قانون کی عدم موجودگی میں صحافیوں کے لیے سرکاری ریکارڈ، دستاویزات اور عوامی اہمیت کے معاملات سے متعلق معلومات براہِ راست حاصل کرنا آسان نہیں۔ اس صورتحال میں انہیں سرکاری ذرائع، غیر رسمی ذرائع اور دستیاب اعداد و شمار پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس سے بعض اوقات خبر کی تصدیق اور بروقت رپورٹنگ کا عمل متاثر ہوتا ہے۔
راجہ خالد، کرائم رپورٹر:
راجہ خالد نے بتایا میں نے 2022ء میں آزاد کشمیر کے اُس وقت کے بعض سرکاری افسران، جن میں سیکرٹریز راجہ امجد، پرویز احسان، خالد کیانی، عباسی، فیاض عباسی، ڈاکٹر لیاقت اور چوہدری لیاقت سمیت دیگر افسران شامل تھے، کے اثاثوں کی تفصیلات کے حوالے سے ایک تحقیقاتی اسٹوری کی تھی۔
خالد کہتے ہیں کہ اس اسٹوری کے لیے میں نے حکومتِ آزاد کشمیر سے ان سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کی تھیں۔ یہ افسران سرکاری ملازمین ہیں اور قواعد کے مطابق انہیں ہر سال اپنی سروس میں اثاثوں کی تفصیلات جمع اور اپ ڈیٹ کرانا ہوتی ہیں۔ اسی طرح وہ انکم ٹیکس حکام کے سامنے بھی اپنے اثاثوں اور آمدن کی تفصیلات ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم انکم ٹیکس ریکارڈ ایک ٹیکس پیئر کی معلومات ہونے کی وجہ سے عام طور پر فراہم نہیں کیا جاتا۔
راجہ خالد نے کہا کہ ہم نے متعلقہ محکمہ سروسز سے بھی ان افسران کے اثاثوں اور سروس ریکارڈ کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس سلسلے میں باقاعدہ رائٹ ٹو انفارمیشن درخواستیں بھی دائر کی گئیں کہ متعلقہ افسران کی جانب سے جمع کرائی گئی اثاثوں کی تفصیلات اور سروس ریکارڈ فراہم کیا جائے، لیکن ہمیں یہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
راجہ خالد نے کہا کہ تحقیقاتی صحافت میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ صحافی کے پاس دیگر ذرائع سے کچھ معلومات موجود ہوتی ہیں، لیکن جب وہ ان معلومات کی تصدیق کے لیے متعلقہ سرکاری ادارے یا دفتر سے باضابطہ ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ریکارڈ فراہم نہیں کیا جاتا۔ بعض اوقات جواب دیا جاتا ہے کہ یہ معلومات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔
راجہ خالد نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ صورتحال تحقیقاتی صحافت کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر صحافی کے پاس معلومات کے دیگر ذرائع موجود بھی ہوں تو ان کی تصدیق کے لیے سرکاری ریکارڈ تک رسائی ضروری ہوتی ہے۔ آزاد کشمیر میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کا مؤثر نفاذ اسی لیے انتہائی اہم ہے تاکہ صحافیوں، بالخصوص تحقیقاتی صحافت کرنے والوں، کو سرکاری ریکارڈ اور درست معلومات تک رسائی حاصل ہو سکے اور وہ تصدیق شدہ معلومات عوام کے سامنے لا سکیں۔
راجہ خالد بتاتے ہیں کہ میرے کیس میں بھی متعلقہ ریکارڈ اب تک فراہم نہیں کیا گیا۔ چنانچہ اسٹوری مکمل کرنے اور دستیاب معلومات کی تصدیق کے لیے مجھے نجی اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر انحصار کرنا پڑا۔
آزاد کشمیر میں آر ٹی آئی قانون سازی کی کوششیں نئی نہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق 3 دسمبر 2021 کو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کو باضابطہ طور پر درخواست دی گئی تھی کہ ’’آزاد جموں و کشمیر رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021‘‘ کو اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ضروری قراردادیں بھی جمع کرائی گئی تھیں، تاہم یہ معاملہ تاحال قانون ساز اسمبلی سے منظوری حاصل نہیں کر سکا۔
ان کے مطابق آر ٹی آئی قانون محض صحافیوں کے لیے نہیں بلکہ عام شہریوں کو حکومتی معاملات سے متعلق معلومات تک رسائی دینے، شفافیت بڑھانے اور اداروں کو جوابدہ بنانے کے لیے بھی اہم ہے۔
سابق وزیر قانون میاں عبد الوحید سے اس معاملے پر مؤثر پیش رفت کے حوالے سے رابطہ کیا گیا، تاہم وہ کوئی خاطر خواہ جواب دینے سے گریزاں رہے
اس سوال کو مکمل طور پر بار بار نظر انداز کیا ۔
سابق مشیر حکومت نثار عباسی کے مطابق آر ٹی آئی قانون کی منظوری کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے کے ساتھ ساتھ حکومت کی مضبوط حمایت بھی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں مختلف جماعتوں کی حکومت میں شمولیت کے باعث بعض اہم قانون سازی میں تاخیر ہو سکتی ہے، تاہم واضح سیاسی مینڈیٹ اور عددی اکثریت کی صورت میں عوام کے حقِ معلومات سے متعلق قانون کی منظوری کا عمل آسان ہو سکتا ہے۔
سنٹر فار پیس اینڈ ڈیولپمنٹ انیشی ایٹوز (CPDI) نے بھی مجوزہ آر ٹی آئی بل 2023 کا جائزہ لے کر اپنی تجاویز آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کو پیش کی تھیں۔ ادارے نے مسودے میں بعض خامیوں اور قانونی و انتظامی پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا تاکہ قانون کو بہترین قومی و بین الاقوامی طریقہ کار اور آزاد کشمیر کے عبوری آئین سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
آزاد کشمیر کے عبوری آئین 1974 کے آرٹیکل 4 کی شق (4) شہریوں کو عوامی مفاد کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق دیتی ہے، تاہم اس حق کو مؤثر بنانے کے لیے باقاعدہ قانون اور اس پر عملدرآمد کا نظام ضروری ہے۔
CPDI نے قانون سازی کے ساتھ سرکاری افسران کی تربیت اور شہریوں میں حقِ معلومات سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔
24 جون 2023 کو آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے سنٹرل پریس کلب کی ٹیم سے ملاقات کے دوران شفافیت اور جوابدہی کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ مختلف مواقع پر ان کا یہ مؤقف بھی سامنے آتا رہا کہ شہریوں کو حکومت اور سرکاری اداروں کے پاس موجود معلومات حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر میڈیا کو کسی سرکاری محکمے سے معلومات درکار ہوں تو متعلقہ محکمے کے سربراہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ معلومات تک رسائی کے عمل کو یقینی بنائے۔
آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974ء کے آرٹیکل 22 کے تحت شہریوں کو حقِ معلومات حاصل ہے۔ 13ویں آئینی ترمیم 2018ء کے ذریعے شامل کیے گئے اس آرٹیکل کے مطابق ہر ریاستی شہری کو عوامی اہمیت کے تمام معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے، تاہم یہ حق قانون کے تحت مقرر کردہ ضوابط اور معقول پابندیوں سے مشروط ہے۔
تاہم، آئین میں حقِ معلومات کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیے جانے کے باوجود اس حق کے عملی استعمال کے لیے مؤثر قانونی اور ادارہ جاتی طریقۂ کار کی عدم موجودگی شہریوں، بالخصوص صحافیوں، کے لیے سرکاری معلومات کے حصول میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
محکمہ اطلاعات آزاد کشمیر کی انفارمیشن آفیسر قرۃ العین شبیر کے مطابق دسمبر 2019 میں آر ٹی آئی ایکٹ کے حوالے سے آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا تھا اور قانون کا مسودہ متعلقہ حکام کو بھی ارسال کیا گیا، تاہم حکومت کی تبدیلی کے بعد اس معاملے پر پیش رفت رک گئی۔
دوسری جانب آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے میرپور سرکٹ میں آر ٹی آئی قانون کے نفاذ کے لیے دائر درخواست بھی زیر سماعت رہی ہے۔ ’’ظفر مغل بنام آزاد حکومت و دیگر‘‘ کے عنوان سے دائر رٹ پٹیشن میں حکومت اور قانون ساز اسمبلی سے مطالبہ کیا گیا کہ معلومات تک رسائی کا قانون منظور کرنے کے ساتھ انفارمیشن کمیشن یا متعلقہ ٹربیونل بھی قائم کیا جائے۔
اس کیس کی پیروی سپریم کورٹ کے وکیل قاضی عدنان قیوم کر رہے ہیں۔
کشمیری صحافی اور سابق صدر پریس کلب میرپور ظفر مغل کے مطابق درخواست پر حکومت سمیت متعلقہ فریقین کو جواب جمع کرانے کے نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ کیس کی ابتدائی سماعت 18 جولائی 2023 کو مقرر تھی، جسے بعد ازاں عدالتی حکم کے تحت 7 ستمبر 2023 تک مؤخر کیا گیا۔
تاہم اس معاملے کو سامنے آئے تقریباً تین سال گزرنے کے باوجود آزاد کشمیر میں معلومات تک رسائی کے لیے کوئی مؤثر اور قابلِ قبول قانونی نظام نافذ نہیں ہو سکا۔
رٹ پٹیشن میں بھی اس امر پر زور دیا گیا کہ صحافیوں، وکلاء اور عام شہریوں کے لیے سرکاری معلومات تک آسان، قانونی اور قابلِ اعتماد رسائی ضروری ہے۔
سپریم کورٹ کے وکیل اشفاق کاظمی کے مطابق آزاد کشمیر میں معلومات تک رسائی کے حوالے سے جامع قانونی فریم ورک موجود نہ ہونے کے باعث صحافیوں کو معلومات کے حصول میں قانونی اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق بعض معاملات میں فیس، دفتری رکاوٹیں اور دیگر انتظامی تقاضے بھی معلومات کے حصول کو مشکل بنا دیتے ہیں۔
اشفاق کاظمی نے کہا کہ مؤثر قانون سازی کے ساتھ معلومات فراہم کرنے والے سرکاری افسران کی جوابدہی، صحافتی ذرائع کے تحفظ اور معلومات تک رسائی کے واضح طریقہ کار کی ضرورت ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
پاکستان انفارمیشن کمیشن کے ایک اہلکار کے مطابق آزاد کشمیر میں معلومات کے حصول میں مشکلات کی صورت میں بعض معاملات میں وفاقی قانون کے تحت دستیاب قانونی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق معلومات کے حصول کے لیے درخواست دینے کے بعد مقررہ مدت تک جواب کا انتظار کیا جائے۔ جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں یاددہانی کرائی جا سکتی ہے، جبکہ اس کے باوجود معلومات فراہم نہ ہونے پر متعلقہ درخواست گزار پاکستان انفارمیشن کمیشن سے رجوع کر سکتا ہے۔
آزاد کشمیر میں آر ٹی آئی قانون کی مسلسل تاخیر ایسے وقت میں جاری ہے جب شفاف حکمرانی، سرکاری ریکارڈ تک عوام کی رسائی اور اداروں کی جوابدہی کو مؤثر جمہوری نظام کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ صحافتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ باقاعدہ قانون اور آزاد انفارمیشن کمیشن کے قیام کے بغیر عوامی مفاد کی معلومات کے حصول کا عمل غیر واضح اور مشکل ہی رہے گا۔





